ذیابیطس کے مریضوں کیلئے مفید نشاستہ دار غذائیں

14

فائل فوٹو

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے تمام تر کاربوہائیڈریٹس یعنی نشاستہ دار غذائیں نقصان دہ نہیں ہیں۔

ذیابیطس کے مریضوں کو عموماََ کاربوہائیڈریٹس یعنی نشاستہ دار غذا سے پرہیز کرنے کا مشوہ دیا جاتا ہے اور یہ جان کر زیادہ تر لوگ حیران ہوں گے کہ ماہرین کے مطابق 5 نشاستہ دار غذائیں ایسی ہیں جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید ہیں۔

آلو جسے’وائٹ کاربوہائیڈریٹ‘ بھی کہا جاتا ہے، یہ بھرپور مقدار میں فائبر اور پروٹین فراہم کرتا ہے اور اگر ذیابیطس کے مریض اسے تل کر اس کے ’چپس‘ بنا کر کھانے کی بجائے اسے پکا کر کھائیں تو ان کے لیے مفید ثابت ہوگا۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے پاستا بھی بہتر رہے گا، اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کا نشاستہ آہستہ آہستہ ہضم ہوتا ہے جس کی وجہ سے خون میں شوگر کی سطح میں اضافہ نہیں ہوتا لہٰذا ذیابیطس کے مریض سبزیوں میں ڈال کر بنایا گیا مزیدار پاستا بے فکر ہوکر کھا سکتے ہیں کیونکہ یہ ان کی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔

اس طرح کچھ خشک میوہ جات ایسے ہیں جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے موزوں غذا ہیں جیسے کہ جھینگے، ان میں فائبر ہوتا ہے اور اس کا گلائسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے جو ممکنہ طور پر خون میں شوگر کو کنٹرول رکھتا ہے۔

اس لیے ماہرین ذیابیطس کے مریضوں کو مخصوص تعداد میں خشک میوہ جات کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔

گاجر کے قدرتی طور پر میٹھے ہونے کے باوجود بھی اس میں شوگر زیادہ نہیں ہوتی، یہ تقریباً 2 گرام ڈائیٹری فائبر اور کم سے کم شوگر کے ساتھ خون میں شوگر کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

علاوہ ازیں، گاجر اینٹی آکسیڈنٹس اور وٹامنز بالخصوص وٹامن اے سے بھرپور ہوتی ہے۔

ذیابیطس مریضوں کے لیے غذا میں اناج (Cereal) کا استعمال بھی موزوں ہو سکتا ہے۔

جؤ کا استعمال خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کی صحت کے لیے مفید ہے کیونکہ جؤ میں بیٹا گلوکن ہوتا ہے جو کہ خون میں شوگر اور انسولین کی سطح کو کم کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، ذیابیطس مریضوں کو السی اور چیا سیڈز کو بھی اپنی غذا میں شامل کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.